Categories
Knowledge

زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنے والی اندھی ہوگئی

زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنے والی اندھی ہوگئی

اَرْوٰی نامی ایک عورت نے حضرت سیِّدُنا سعید بن زیدرضی اللہ تعالٰی عنہ سے گھر کے بعض حصے کے متعلق جھگڑا کیا۔آپ نے ارشاد فرمایا: یہ زمین اسی کو دے دو،میں نے رسولُ اللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ فرماتے سنا ہے:مَنْ اَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْاَرْضِ بِغَیْرِ حَقِّہِ طُوِّقَہُ فِیْ سَبْعِ اَرَضِیْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یعنی جس شخص نے ایک بالشت زمین بھی ناحق لی قیامت کے دن اس کے گلے میں سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا۔اس کے بعدآپ نے دعا فرمائی:اَ للّٰہُمَّ إِنْ کَانَتْ کَاذِبَۃً فَأَعْمِ بَصَرَہَا وَاجْعَلْ قَبْرَہَا فِی دَارِہَایعنی یااللہعَزَّوَجَلَّ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کو اندھا کردے اور اسکی قبر اسی گھر میں بنادے۔راوی کہتے ہیں :میں نے دیکھا کہ وہ عورت اندھی ہوچکی تھی ،دیواروں کو ٹٹولتی پھرتی تھی اور کہتی تھی:مجھے سعید بن زید کی بددعا لگ گئی ہے،آخر کار ایک دن گھر میں چلتے ہوئے وہ کنویں میں گر کر مرگئی اور وہی کنواں اس کی قبر بن گیا۔( مسلم،کتاب المساقاۃ،باب تحریم الظلم، ص۸۹۶،حدیث:۱۶۱۰)

مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان لکھتے ہیں : زمین کے سات طبقے اوپر نیچے ہیں صرف سات ملک نہیں ،پہلے تو اس غاصب کو زمین کے سات طَبق کا طوق پہنایا جائے گا پھر اسے زمین میں دھنسایا جائے گا، لہٰذا جن احادیث میں ہے کہ اسے زمین میں دھنسایا جائے گا وہ احادیث اس حدیث کے

خلاف نہیں ،اللہ تعالٰی اس غاصِب کی گردن اتنی لمبی کردے گا کہ اتنی بڑی ہنسلی اس میں آجائے گی معلوم ہوا کہ زمین کا غصب دوسرے غصب سے سخت تر ہے ۔(مراۃ المناجیح،۴/۳۱۳)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!فی زمانہ زمینوں پر ناجائز قبضے کے واقعات کی کثرت ہے ، اپنی جمع پونچی خرچ کر کے ذاتی مکان کا خواب آنکھوں میں سجائے کوئی شخص جب زمین خریدنے میں کامیاب ہوہی جاتا ہے تو اسے یہ فکر سونے نہیں دیتی کہ قبضہ گروپ سے اپنی زمین کو محفوظ کس طرح رکھا جائے ؟ اِحتیاطی تدابیر اپنانے کے باوجود اگر اس کی زمین پر قبضہ ہوجائے تو منت سماجت کرنے پر بھی بے شرم قبضہ خوروں کو اس پر ترس نہیں آتا بلکہ اسی کی زمین اسے واپس کرنے کے لئے بھاری رقم طلب کی جاتی ہے ، اگر وہ مظلوم شخص قبضہ چھڑانے کے لئے کورٹ کچہری کا دروازہ کھٹکھٹائے تو ایسے ایسے تاخیری حربے اختیار کئے جاتے ہیں کہ زمین کا اصل مالک زمین میں جاسوتا ہے لیکن اسے زمین واپس نہیں ملتی ۔زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کو سنبھل جانا چاہئے کہ آج جس زمین پر قبضہ کرکے وہ خوش ہورہے ہیں اور مظلوم کی بددعائیں لے رہے ہیں کل مرنے کے بعد یہی زمین گلے کا طوق بن کر رسوائی کا سبب نہ بن جائے ۔بسا اوقات دنیا میں ہی قبضہ گروپوں کا انجام قتل وغارت اور قید کی صورت میں دوسروں کو درسِ عبرت دیتا ہے ۔ اگر بالفرض انہیں دنیا میں اپنے کئے کی سزا نہ بھی ملے تو کل مرنے کے بعد انہیں زمین میں ہی دفن ہونا ہے اور بعدِ مرگ اس

حرام وناجائز فعل کی جو سزائیں ملیں گی وہ بھی کان کھول کر سن لیں ، چنانچہ

(۱)سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا

سرکارِمدینۂ منوّرہ،سردارِمکّۂ مکرّمہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے: جو زمین کا کچھ حصہ ناحق لے لے اسے قیامت کے دن سات زمینوں تک دھنسایا جائے